Monday, 25 September 2017

بلاگ 2B

موت 2
تو۔ مجھے قطعا اندازہ نہیں تھا کہ ایک گھر کا فرد مر جائے تو اس صدمے کو سہتے کیسے ہیں، اس ماحول مین جیتے کیسے ہیں اور نکلتے کیاے ہیں ؟ یعنی۔ جتنا بھی موت کو جانا تھا صرف کسی سے سنا اور کسی کو دیکھا تھا۔ خود کےلئے موت ابھی تک اجنبی تھی۔ ہماری موت سے واقفیت تب ہوتی جب ہماری دادی فوت ہوتیں۔ لیکن، موت جب ہمارے گھر میں داخل ہوئی، اس نے وہاں وار کیا جسکا ہم کبھی سوچ سکتے تھے نہ کبھی اسکو قبول کر سکتے تھے۔  ہمارے ابو، ہماری دنیا، ہماری زندگی، ہماری زندگی خوشیاں ، ہمارا سب کچھ۔ ہمارے ابو کو ہی لے اڑی۔  یہ ایسا وار تھا کہ ہم سب ساکت رہ گئے۔  ہمارے ابو کبھی بیمار نہیں ہوئے تھے، کبھی ان کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا تھا ، کبھی بھی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا جس سے ہمیں لگا ہو کہ ہم انکو کھو سکتے ہیں۔ ان کو ہم نے کھو دیا اور پتا تک نہیں چلا۔  ایسے ہی، اچانک۔  کوئی آندھی آئی تھی، کوئی طوفان آیا تھا، کوئی سونامی، جس نے وہ شاخ ہی کاٹ دی تھی جس پہ ہمارا تنکوں کا گھونسلہ تھا۔ ایسے لگا تھا کہ جیسے ایک ایٹم بمب پھٹا ہے ، کوئی آتش فشاں جس نے ایک ہی دھماکے سے ساری دنیا اڑا دی ہے۔ ہمارا سب کچھ، ہماری ذات، ہمارے وجود تک ہوا میں تحلیل ہو گئے تھے۔  میرے بھائی اور بہن نے کیسے اس صدمے کو سہا ، کیسے اس مرحلے سے گزرے۔  میں نہیں جانتی۔ میں نے کبھی پوچھا نہیں۔ کبھی پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔  پھر بھی اتنا اندازہ ہے مجھے کہ انھوں نے خود کو فریب دے کر خود کو حوصلہ دیا ہوگا۔  یہ کہہ کر ابو زندہ ہیں لیکن ہمارے پاس نہیں۔  اور میں، میں نے تو خود کو رونے تک نہیں دیا تھا۔  جب میں روتی تھی تو ابو چپ کرواتے تھے۔ جب مجھے تکلیف ہوتی تھی تو ابو کو پکارتی تھی۔  اب کسے پکارتی؟ کون چپ کرواتا ؟ اور مجھے لگا کہ اگر میری آنکھ سے ایک بھی آنسو ٹپکا ، پھر میں کبھی بھی چپ نہیں ہو سکوں گی۔  جبکہ مجھ سے چھوٹی میری ایک بہن بھی تھی۔ اسکو میں نے حوصلہ دینا تھا۔ وہ جب سے پیدا ہوئی تھی۔ ہر تکلیف میں اگر اس نے ابو کے علاوہ کسی کو پکارا تھا تو وہ میں تھی۔ میرے آنسو پونچھنے والا مجھ سے چھن گیا تھا۔  پھر میں روتی تو اسے کون چُپ کرواتا ؟ اس کی خاطر میں نے خود کو حوصلہ دینے کی کوشش میں اپنے آنسو روکے۔ کسی پہ ظاہر نہ کیا لیکن، میں ذہنی طور پر بہت بری طرح متاثر ہوئی۔ میں نے بھی اپنے آنسو روکنے کے لئے اور خود کو حوصلہ دینے کے لئے خود کو بہت بہلاوے دئیے تھے۔  کہا کہ ابو زندہ ہیں۔  کوئی غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے۔   ہو سکتا ہے یہ مرنے والا ابو کا ہمشکل ہو۔ کسی اور فون کی گھنٹی بجے گی یا گھر کا دروازہ کھلے گا اور ابو ہنستےمسکراتے گھر کے اندر داخل ہوں گے۔ ہو سکتا ہے۔  ممکن ہے نا !  ایسے خود کو بہلاتی رہی۔ مگر روز راتی کو خواب میں ابو آئیں۔ میں ان کو دیکھ کر اختیار کھو دوں۔ ان سے لپٹ کر شدت سے روؤں۔ اور ضد کروں۔ “ ابو، آپ کیوں چلے گئے تھے؟ اب نہ جانا۔ اگر آپ جائیں گے تو میں بھی پیچھے نہیں رہوں گی۔ میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔  مجھے اپنے ساتھ لے چلیں ابو۔  میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔ “ میں حالانکہ سترہ برس کی تھی۔  لیکن ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی ٹانگوں سے لپٹ محض چار پانچ سال کے بچے کی طرح ضد کرتی اور روتی تھی۔ مگر ابو ہر بار مجھے چھوڑ کر چلے جائیں۔ حوصلہ بہت دیتے تھے۔  تسلی بھی بہت دیتے تھے۔  لیکن چھوڑ بھی جاتے تھے۔  میں پیچھے روتی اور پکارتی اٹھ کھڑی ہوتی تھی۔ خواب ٹوٹ جاتا تھا۔  اور میں خود کو تنہا بستر پہ پاتی تھی۔  اس کے علاوہ مجھے ابو کا الوژن آنے لگا تھا۔  ایسے ہی ، کسی کے ساتھ بیٹھے، کسی سے بات کرتے، اچانک سامنے والے کی جگہ ابو نظر آتے تھے۔ کسی کی بھی شکل دیکھتے دیکھتے بدل کر ابو کی بن جاتی تھی۔ اور میں اتنی ڈیسپرٹ تھی کہ ذرا بھی سوچتی نہیں تھی اور فوراً انکو روکنے کی کوشش کرتی تھی۔ لیکن ، میرے کچھ کرنے سے پہلے میرا الوژن ٹوٹ جاتا تھا۔  صرف ایک بار ایسا ہوا تھا کہ میں نے اپنی سہیلی کا بازو پکڑا تھا کیونکہ اسکی شکل ابو میں بدل گئی تھی اور ایک بار چارپائی پہ بیٹھی دادی کی ٹانگ پکڑی تھی کہ مجھے لگا ابو ہیں تو انکو روکنے کی کوشش کی تھی۔دونوں بار ہی اسلیے کہ کہ وہ میری قریب تھیں۔ ورنہ جس میں بھی ابو نظر آئے۔ اتنےفاصلے پہ نظر آئے کہ ان تک پہنچنے یا بلانے سے پہلے الوژن ٹوٹ گیا۔  پورا ایک سال ، پورے ایک سال تک میں مسلسل خواب میں ابو دیکھتی .  رہی اور انُکے الوژن کا شکار رہی جب کہ کسی پہ اپنی حالت اور پریشانی ظاہر نہیں کی۔ آخر کار، پورے ایک سال بعد
کیا ہوا، کہ حسبِ معمول میں نے خواب میں ابو دیکھے۔ وہ ایک جگہ چارپائی کے کنارے بیٹھے کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ جیسا کہ انکی عادت تھی خوش گپیوں کی۔ میرا بڑا بھائی خاور بھی وہیں موجود تھا۔ میں ابو کے سامنے کچھ فاصلے پہ فرش پہ بیٹھی تھی۔ میں نے سوچا، دیکھو نا، ابو پھر میرے سامنے، میرے پاس موجود ہیں۔ یہ ہر روز ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہر روز آ جاتے ہیں اور پھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ مجھے بےحد اذیت ہوتی ہے اس روز روز کے بچھڑنے سے۔ تب میرے دِل میں آیا کہ آج پکا ان کو نہیں جانے دوں گی۔ میں ان کی ٹانگوں سے لپٹ جاؤں گی اور چاہے کچھ بھی کہہ لیں میں ان کے کسی دلاسے اور بہلاوے میں آ کر ان کو چھوڑوں گی نہیں۔ صحیح کس کے پکڑ کے رکھوں گی تاکہ اگر جائیں تو مجھے ساتھ لے کر جائیں۔ یہ ارادہ کر کے میں گھٹنوں کے بل رینگ کر ان کے پاس گئی۔ ان سے محبت، عقیدت اور ان سے بچھڑنے کے غم میں میں اتنی بدحال ہوئی تھی کہ مجھ میں اٹھ کر چلنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ یوں میں رینگ کر ان کے پاس پہنچی اور ان کی ٹانگ کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا۔ ان کے گھٹنے پہ پیشانی ٹکا کر روئی اور فریاد کی۔ ابو، مجھے بھی ساتھ لے کر جائیں۔
کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ابو روکنے سے رکیں گے نہیں۔ اسلئے میں نے یہی فریاد کی کہ مجھے ساتھ لے کر جائیں۔ تب ابو نے مجھے پیار سے دلاسا دیا۔ بولے۔ ابھی تمہیں لے جانے کا وقت نہیں آیا۔ ابھی تم نے زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے۔ اور تم سے پہلے میں بےجی (ہماری دادی ) کو لے جانے آؤں گا۔ اور تمہیں لینے کے لئے جی ہور ( یعنی ان کے ابو اور میرے دادا ) اور ان کے ساتھ ایک فرشتہ آئے گا، وہ آ کر تمہیں لے جائیں گے۔
 مجھے یاد نہیں انھوں نے کیسے مگر مجھے بتایا تھا کہ تم ترپن سال کی ہو چکو گی تو تب تمہیں لینے آئیں گے۔ اس سے مجھے خاصی ڈھارس ملی۔ ایک جو لا محدود مدت کی جدائی اور انتظار تھا وہ ختم ہو گیا۔ اب مجھے معلوم تھا کہ ابو سے دوبارہ ملنے میں کتنا وقت باقی ہے۔ مجھے ایک تاریخ مل گئی تھی۔  فوری طور پر تو مجھے حوصلہ ہوا مگر فوراً مجھے لگا کہ ابھی یہ اُٹھ کر چل دیں گے تو میرا دل کھنچا، میں نے ان کی ٹانگ کے گرد اپنا گھیرا کسا اور کہا، نہیں، مجھے ابھی جانا ہے۔ آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔
ابو نے مجھے منع نہ کیا۔ ایسے ہی معمول کے انداز میں سر گھما کر مرے بھائی سے کچھ کہا۔ ان کی بات پہ میں نے بھی سر گھما کر بھائی کی طرف دیکھا۔ بس ، میرا وہ دھیان بٹنے کی دیر تھی۔ میں نے واپس دیکھا تو ابو غائب۔
اس رات کی صبح جب میں اٹھی تو خاصی پرسکون تھی۔ دادی کو بتایا کہ دادی، مجھے ابو سے ملاقات کی تاریخ مل گئی ہے۔ میں نے بس اب اس دن کا انتظار کرنا ہے اور اپنے ذمے لگے کام ختم کرنے ہیں۔  اس کو کوئی حقیقت سمجھے، سچائی سمجھے، یا صرف میری خود فریبی۔ جو بھی ہے۔ اس خواب اور اس یقین نے مجھے بےحد حوصلہ دیا۔ اس خواب کے بعد پھر کبھی مجھے ایسا خواب نہیں آیا اور نہ کبھی کوئی الوژن کا معاملہ ہوا۔ اس طرح میں پورا ایک سال تک اس صدمے سے لڑنے کے بعد آخر کار اس ایک فیز سے نکلی۔ یعنی، میری زندگی کی، میرے گھر کی پہلی موت۔
اس کے بعد، ایک بار پھر ہماری نظریں ہماری دادی پہ تھیں۔ دادی خاصی عمر کاٹ چکی تھیں۔ یہی لگتا تھا کہ ان کا وقت قریب ہے۔ یہی کرتے کرتے ابو کے بعد سولہ اور سال ہمارے دادی نے کاٹ لئے۔ ماشالله سو سال بھی تقریباً پورے کر لئے تھے۔ سو سال سے ایک آدھ سال اوپر شاید ہوں، سو کم تو نہ تھیں جب دوہزار پندرہ کی دسمبر میں ان کا انتقال ہوا۔ لیکن، یہ وہ وقت تھا جب ان کو زندہ دیکھ کر بھی دُکھ ہوتا تھا۔ گرنے کی وجہ سے ان کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ تین سال سے وہ مکمل بستر پہ پڑی تھیں۔ نہ کہیں آنا نہ جانا، بس ایک بستر پہ کمرے سے اندر اور کمرے سے باہر وہ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتے دیکھ رہی تھیں۔ بینائی بھی جا چکی تھی، سنائی بھی کچھ نہیں دیتا تھا۔ اکثر بیمار ہو جاتی تھیں۔ نہ کچھ نظر آئے، نہ کسی کی کوئی بات سن سکیں، نہ کسی کو پہچان سکیں، بیچاری ایسی بےبسی میں بس شور مچاتی تھیں۔ ایسے میں جب وہ فوت ہوئیں تو سوچا کہ آخر کار وہ ان درد ناک دنوں سے آزاد ہو گئیں۔ الله انکو کو آگے راحت عطا فرمائے۔ بیچاری نے بہت جھیلا ہے۔
تو، کہنے کا مقصد یہ کہ دادی کے بعد میں اس خوف سے آازد ہو گئی۔ جیسے بندہ ایک فرض سے سبکدوش ہو جاتا ہے کہ لو جی، میرا کام ختم۔ ایسے ہی میں نے بھی سُکھ کی سانس لی کہ چلو جی۔ اب یہ ڈر ختم۔ اب بس اپنی باری کا انتظار ہے۔ اب میں کسی اپنے کو مرتے نہیں دیکھوں گی۔ لیکن۔۔۔
میرے ابو کی سگی خالہ کا سگا پوتا تھا۔ میرے ابو کے خالہ زاد کا بیٹا۔ رہتا تو دوسرے شہر میں تھا لیکن بچپن سے ہمارے گھر آتا جاتا تھا۔ میرے ابو اکلوتے تھے اور ہماری ماں کی طلاق ہونے کی وجہ سے ہمارا نھنیال والا سلسلہ بھی نہیں تھا۔ یوں ہماری زندگی میں چچا،تائے، پھپھیاں، ماسیاں، مامے وغیرہ جیسے رشتوں کا کوئی دخل نہیں رہا۔ ابو کے جو بھی کزنز وغیرہ تھے سب انگلنڈ میں۔ جو ایک دو گھر تھے ان کا ایسا آنا جانا نہیں تھا کہ بندہ گھر کی بات سمجھے۔ بس، خاص موقعوں پہ مہمانوں کی طرح ہی ہمارا ان سے آناجانا تھا۔ ان میں صرف ایک یہی میرے ابو کے خالہ زاد کا بیٹا تھا جسے میں نے بچپن سے ہمارے گھر آتے دیکھا تھا۔ وہ آتا تھا، ہمارے گھر رہتا تھا، ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، کھاتا پیتا، ٹی، وی فلمیں دیکھنا، کرکٹ کھیلنا، لُڈو اور کیرم بورڈ کھیلنا۔ بالکل ہمارے بھائیوں جیسا تھا وہ۔ اس کا آنا، رہنا اور چلے جانا بھی ہمارے لئے کوئی الگ سمجھنے والی بات نہیں تھی۔ ہمارا اپنا سب سے بڑا بھائی بھی میری زندگی کے اوائل میں سعودیہ چلا گیا تھا۔ وہ بھی ہر سال گھر آتا تھا۔ ایک مہینہ دہتا تھا اور واپس چلا جاتا تھا۔ یوں جیسے ہمارے لئے ہمارا بھائی تھا ویسے ہی وہ تھا۔ یعنی۔ ہمیں ایسا ہی لگتا تھا کہ ہمارے دو بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ رہتے نہیں۔ بس کچھ عرصہ کے لئے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، الٹا ہمارا کزن ہمارے بھائی سے زیادہ آتا تھا۔ ہم بھی اس کے گھر جاتے تو وہاں بھی اس سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ یعنی، اپنے سگے بھائی سے زیادہ اپنے کزن کے ساتھ زیادہ ہمارا وقت گزرا۔ وہ ہمارا پانچواں بھائی تھا۔  کوئی دو، تین سال پہلے سنا کہ اس کے پیروں میں کوئی انفکشن ہو گیا تھا، اسلئے ڈاکٹروں نے اس کے پیر کاٹ دیئے ہیں۔ میرا دِل بہت  بری طرح سے ٹوٹا۔ ابھی اس کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔ مجھے صدمہ تو بہت پہنچا، لیکن اس قدر میں متاثر اسلئے نہیں ہوئی کہ میں نے اس کو اس حالت میں دیکھا نہیں۔ میں انگلنڈ تھی اور وہ پاکستان۔ میں نے شکر کیا کہ میں اس سے اتنی دور ہوں، ورنہ میں کیسے دیکھتی اس کو اس حالت میں؟ ۔۔۔ لیکن، پھر پچھلے سال اچانک خبر آئی کہ وہ چل بسا۔ یہ میرے لئے ایک ایسا صدمہ تھا جس کے لئے میں قطعاً تیار نہیں تھی۔ انسان کو اپنوں کو کھونے کا خیال آتا ہے، وہ ڈرتا ہے۔ لیکن، وہ ایک ایسا اپنا تھا جس کو کھونے کے بارے میں کبھی سوچا تک نہ تھا، نہ ہی کبھی سوچ سکتی تھی۔ کیوں؟ بھلا کیوں میں سوچتی کہ وہ بھی ایسے جا سکتا ہے؟
وہ چلا گیا۔ اور دکھ کی بات یہ کہ اس بار میں رونا چاہتی تھی۔ اس کے جانے کے دکھ میں رونا چاہتی تھی۔  میں روئی بھی، آج بھی ، جب بھی اس کا خیال یا ذکر آتا ہے تو آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے ہیں، لیکن، اپنے باپ کا ماتم میں نے اسلئے نہیں کیا تھا کہ کوئی چپ کوانے والا نہیں۔ اس کا ماتم میں کرنا چاہتی تھی لیکن میرے ساتھ کوئی اور رونے والا ہی نہیں تھا۔ کوئی مجھے دستیاب نہ ہوا جو میرے دکھ کو محسوس کرتا، کوئی سمجھتا کہ مرنے والا اس کا بھی بھائی تھا۔ لوگوں نے اگر افسوس کا اظہار کیا، تعزیت کی تو اس کے باپ، اس کی سگی بہنوں اور بھائی سے۔ مجھ سے کسی نے نہیں کہا کہ وہ تمہارا بھی بھائی تھا۔ ہمیں افسوس ہوا کہ تمہارا بھائی چلا گیا۔میرا درد کسی نے نہیں بانٹا۔ کسی کو میرا درد نظر ہی نہیں آیا۔ اس سال جب میں پاکستان گئی تو رسم و دستور کے مطابق مجھے اس کے والد سے تعزیت کرنے جانا تھا۔ میرے لئے یہ جان لیوا مرحلہ تھا۔ بھائی میرا مرا ہے اور اس کی تعزیت کرنے میں کسی اور کے پاس جاؤں؟ مجھ سے تعزیت کرو، میرا درد بانٹو، کوئی مجھ سے آ کر افسوس کرے۔ میں کیسے جاؤں؟ کیا کہوں؟ جا کر کہوں، چاچا، آپ کا بیٹا مرا مجھے سن کر بہت افسوس ہوا؟ ۔۔۔۔ ان کا بیٹا میرا بھائی تھا۔ بھائی مرا ہے میرا خدا کے بندو۔ مجھ سے  افسوس کرو، مجھے حوصلہ دو۔
ایسی ہے موت۔ بے رحم اور ناقابلِ توقع۔ آپ پہ اس طرف سے وار کرتی ہے جس طرف کا آپ نے سوچا تک نہیں ہوتا۔ جس کے لئے ہم ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ وہ بیٹھے رہ جاتے ہیں ہماری آنکھوں کے سامنے، ہمارے پاس۔ لیکن، جنکا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا ان کو لے اڑتی ہے۔ مجھے خود کو لے کر موت کا ڈر تو اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب مجھے اپنے رشتوں سے محبت کو احساس ہوا تھا۔ لیکن، جو میں سوچتی تھی کہ اب میں اس غم سے فارغ ہوں، اب کبھی یہ موت مجھ پہ وار نہیں کرے گی، میں غلط تھی۔ میرے کزن کی موت نے میرا اعتماد مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔ اب مجھے ڈر لگا رہتا ہے۔ جانے کب کس کی خبر آجائے جسے کھونے کا گمان تک نہ ہو۔












No comments:

Post a Comment