موت
جس گھر میں میں نے ہوش سنبھالا، وہاں مجھ سے پہلے چار بھائی، ایک باپ، ایک ماں اور ایک دادی پہلے سے موجود تھے۔ جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو پہلے وہ دنیا سے متعارف ہوتا ہے، دنیا میں بسنے والوں سے، زندگی سے، اور ابھی وہ سیکھنے اور جاننے کے مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے کہ اسی دوران اس کا تعارف موت سے بھی ہوتا ہے۔ کچھ بہت جلدی ئو جاتے ہیں ، کچھ کو زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اپنی اپنی زندگی ہے اور اپنے اپنے حالات۔ میں بھی بہت چھوٹی تھی جب موت سے تعارف ہوا۔ پہلے تو میں نے یقین نہ کیا کہ انسان مر بھی جاتا ہے۔ حتی کہ پہلی دفعہ جب معیت دیکھی تو تب بھی یقین نہ کیا۔ کہا، یہ تو سو رہے ہیں۔ سب رو رہے تھے اور میری سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ اس میں رونے والی کیا بات ہے،ہر روز ہی تو سوتے ہیں ہم؟
یوں، پہلے تو موت کی کوئی سمجھ نہیں تھی۔پھر جب پتا چلا کہ انسان مر بھی جاتا ہے ، تب موت کا کلیہ بھی سمجھ ایا کہ انسان پہلے پیدا ہوتا ہے، چھوٹا سا بچہ ہوتا ہے۔ پھر وہ بچہ دھیرے دھیرے بڑا ہوتا ہے۔ بڑا ہوکر انسان ایک آدمی یا عورت بن جاتا ہے۔ پھر بوڑھا ہوتا ہے۔ اور جب بہت بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ مر جاتا ہے۔ میں نے جب یہ جانا تو حساب بھی لگا لیا۔ میں سوچا کرتی تھی، ہمارے گھر میں پہلے ہماری دادی مریں گی، پھر ابو فوت ہوں گے، پھر امی، اسکے بعد اسی عمر کی ترتیب سے ہم بہن بھائیوں کی باری آئے گی۔
میں نے موت کو مان تو لیا تھا مگر شروع میں یہ کوئی بڑی چیز مجھے نہیں لگی تھی۔ یہی سوچا کہ جیسے ہم پیدا ہوتے ہیں، جیسے بڑے ہوتے ہیں، اسی طرح بوڑھے ہو کر مر بھی جاتے ہیں۔لیکن بعد میں میں نے سنا کہ موت خاصی تکلیف دہ شے ہے۔ انسان اتنا درد، اتنی تکلیف سے گزرتا ہے کہ اس کی تاب نہیں لا پاتا اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ میرے لئے حیران کن کے ساتھ خوفناک بھی تھا۔ یعنی، مرتا وہی ہے جو اتنی تکلیف سے گزرتا ہے۔ مجھے موت سے خوف آنے لگا۔ پھر بھی خود کو بہلاتی تھی کہ میں کونسا ابھی مر رہی ہوں۔ ابھی ایک لمبی قطار میرے آگے کھڑی ہے۔ ابھی سو سال کی ہونے میں بہت وقت ہے۔ کیونکہ اس وقت میں سمجھتی تھی کہ انسان سو سال کا ہو کر ہی مرتا ہے۔پھر میں نے اپنے اردگرد کسی کم عمر کی موت کی خبر سنی۔ میں بےحد حیران ہوئی۔ ایک بار پھر میں ماننے کو تیار نہ ہوئی کہ موت ایسے بھی آتی ہے۔ لیکن پھر مجھے وہاں سے پتا چلا کہ نہیں، صرف سو سال ہی نہیں۔ اس سے پہلے بھی موت آ سکتی ہے۔ کوئی بیماری، کوئی حادثہ، کوئی درد جو اس قدر بڑھ جائے کہ آپ سہہ نہ سکو تو آپ مر جاتے ہو۔ میرے دل میں موت کا خوف اور بھی بڑھ گیا۔ مجھے پہلے تو اتنی تسلی تھی کہ سو سال کی ہو کر مروں گی۔ اب مجھے وہ تسلی بھی نہیں رہی تھی۔ مجھے ڈر لگنے لگا کہ کہیں کچھ ایسا نہ ہو جائے میرے ساتھ کہ میں بھی اس درد کی شدت کو برداشت نہ کر سکوں۔ میں اتنی ڈر گئی کہ انگلی پہ خراش بھی آجائے تو رونے چلانے لگتی تھی کہ ہائے میں مرنے لگی ہوں۔ مجھے یاد ہے۔ میں چھوٹی سی تھی۔ کوئی پانچ سال کے لگ بھگ۔ مجھے ٹھوکر لگی اور میرا سر سیڑھیوں کے کونے پہ لگا۔ میری پیشانی پہ گہرا زخم آیا۔ خون کا فوارہ ابل پڑا اور میں زخم پہ ہاتھ رکھ کر چیخنے لگی۔ اس دن مجھے واقعی لگا تھا کہ میری موت یقینی ہے۔
ایسے موت سے ڈرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں میں بڑی ہوتی جا رہی تھی ، میرے دل میں رشتوں کا احساس بھی جاگ رہا تھا۔ میرے ماں باپ، بہن بھائی، ان سب سے مجھے اتنی محبت اور لگاوٹ ہو چکی تھی کہ اب میں خود کو یہ حوصلہ بھی نہیں دے سکتی تھی کہ مجھ سے پہلے مرنے کے لئے میرے گھر میں اور افراد بھی موجود ہیں۔ میں اب ان کے بارے میں بھی سوچ کر ڈرنے لگی تھی۔ مجھے پریشانی اور گھبراہٹ ہوتی تھی۔ اگر مجھ سے پہلے میرے گھر کا کوئی فرد مر گیا، میں کیسے برداشت کروں گی؟ کیسے میں کسی کو کھو سکتی ہوں ؟ اور صرف یہی نہیں۔ میرے لئے یہ ہی ناقابل قبول تھا کہ میرے گھر والوں میں سے کوئی موت کا درد سہے۔ نہیں، نہیں، نہیں، انھیں کچھ نہیں ہونا چاہئیے۔ ان میں سے کسی کو بھی کبھی کچھ نہیں ہونا چاہئیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اس ڈر سے نکل آئی کہ میں کسی وقت بھی مر سکتی ہوں۔ خود کو حوصلہ دینے کے لئے میں نے خود کو سمجھایا کہ تم بس یہی سوچو کہ جب بوڑھی ہوں گی تب ہی مروں گی۔ باقی کسی حادثے یا بیماری کے بارے میں سوچ کر ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تسلی رکھو۔ کچھ نہیں ہوگا۔ اور یہ تسلی دینا اتنا مشکل بھی نہیں تھا۔ میں نے وہ لوگ بھی دیکھ لئے تھے جو حادثوں سے گزرنے کے باوجود زندہ بچ گئے۔ انتہائی کریٹکل حالت سے گزر کر ، موت کے منہ سے ہو کر واپس آتے بھی لوگ دیکھ لئے تھے اور خود بھی ایک سو پانچ تک کے بخار سے نمٹ چکی تھی۔ اتنا کچھ دیکھنے اور سہنے کے بعد مجھے خاصا حوصلہ ہوا کہ انسان اتنا بھی کمزور نہیں۔ بہر حال اتنا ڈر اور پریشانی پھر بھی تھی کہ اگر اتنی تکلیفیں سہہ کر بھی انسان بچ جاتا ہے تو آخر موت کا درد کا قدر شدید ہوگا؟ لیکن۔ یہ تھا کہ اب میری اپنے گھر والوں سے محبت اتنی بڑھ گئی تھی کہ میں خواہش کرنے لگی تھی کہ ہمارے گھر میں مرنے والا سب سے پہلا فرد میں ہوں۔ موت کا ذائقہ سب سے پہلے میں چکھوں۔ تاکہ میں کسی اور کو مرتے ہوئے نہ دیکھوں۔ اس خواہش کے باوجود میری دادی ، جو بوڑھی تھیں اور میری آنکھوں کے سامنے تھیں۔ میرے دل میں یہی خیال آتا تھا کہ مرنے والا پہلا فرد میری دادی ہی ہیں۔ میری تو موت جب آئے گی، آئے گی۔ میں جب بوڑھی ہوں گی تب ہوں گی۔ لیکن دادی ، یہ تو پہلے ہی بوڑھی ہو چکی ہیں۔ یعنی۔ وہ موت کی سٹیج کو پہنچ رہی تھیں میرے مطابق۔ اسلئے میری خواہش کے باوجودکہ سب سے پہلے میں مروں ، ہم میں سب سے پہلے ہماری دادی ہی مرتی دکھائی پڑتی تھیں۔ اور چونکہ وہ بوڑھی تھیں اور ان کا ہی پہلا نمبر دکھتا تھا۔ اسلئے میں نے کہیں نہ کہیں دل کو منا بھی لیا تھا کہ او۔ کے۔ اب اگر دادی ہی پہلے جاتی دکھتی ہیں اور ان کو روکا بھی نہیں جا سکتا تو پھر کیا کر سکتے ہیں۔ قبول کر لو۔
یوں میں نے ایک طرح سے مان لیا کہ ہمارے گھر میں سب سے پہلے مرنے والی ہماری دادی ہی ہیں۔ ہاں۔ خواہش اور دعا یہی کہ ابھی نہ مریں۔ جتنا لمبا عرصہ جی سکیں ، وہ جیئیں۔ کم از کم سو سال تو پورے کریں۔ اس عمر تک مجھے اتنا بھی پتا چل چکا تھا کہ وہ کوئی کوئی ہی ہوتا ہے جو سو سال تک جیتا ہے۔ ورنہ تو لوگ مشکل سے اسی تک پہنچ پاتے ہیں۔ اور میں نے جب سے ہوش سنبھالا تھا دادی کو یہی کہتے سنا تھا “میں اسی سال کی بڑھیا”۔ تو یوں دادی کو کھونے کے خوف کے ساتھ ہی میں بڑی ہوئی اور خواہش کی کہ دادی سو سال تک تو جیئیں۔ اور جب دادی مریں گی ، چلو مریں گی۔ اسکے بعد نہیں۔ اسکے بعد میں کسی کو مرتا نہیں دیکھوں۔ کیونکہ دادی کے بعد ہمارے گھر میں سب سے بڑا ابو تھے۔ “ابو” وہ واحد انسان جن سے ہم سب بہن بھائی سب سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ ان سے ڈرتے بھی بہت تھے لیکن ان کی جو عزت اور عزت سے کہیں بڑھ کر ان کے لئے جو محبت تھی، جو ان کے ساتھ ہمارا لگاؤ تھا، جو اموشنل اٹچمنٹ تھی۔ وہ کبھی کسی اور کے ساتھ ہوئی ہی نہیں۔ وہ ہماری زندگی تھے، ہماری زندگی کا حسن، ہماری زندگی کی سب سے بڑی خوشی۔ ان کو دیکھ کر ہم جیتے تھے اور ان کے لئے مر بھی سکتے تھے۔ ان کا تو میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ دادی کے بعد میں انھیں مرتے دیکھوں۔ اور چونکہ دادی کے بعد انکا ہی نمبر نظر آتا تھا تو دل میں مرنے کی چاہ اور بھی بڑھ جاتی تھی۔ میں خواہش کرتی رہتی تھی اور جو کبھی نماز پڑھوں تو ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتی تھی کہ یا اللہ۔ دادی کو تو تو لے لے گا۔ لیکن ابو، انکو نہ لینا۔ کبھی بھی نہیں۔ ابو سے پہلے مجھے مارنا۔ تاکہ میں ابو کو مرتے نہ دیکھوں، کبھی وہ وقت میری زندگی میں نہ آئے جب میں زندہ ہوں لیکن ابو مر چکے ہوں۔
ابو کو کھونے کا ڈر اور ان سے پہلے مرنے کی خواہش اتنی شدید تھی کہ میں نے اسی خواہش پہ یقین کر کے خود کو تسلی دے لی کہ ابو سے پہلے میں مروں گی۔ اور اپنی اسی سوچ اور خواہش کو میں اپنی زندگی کی حقیقت مان لیا۔ یوں موت سے بے فکر ہو کر میں زندگی جینے لگی۔البتہ۔ جب کبھی کہیں کوئی ماتم ہو جائے تو کبھی خیال آ جایا کرتا تھا کہ ایک دن ہماری دادی فوت ہوں گی اور اس طرح کا ماحول ہمارے گھر میں ہوگا۔ یہ سوچ کر بہت گھبراہٹ ہوتی تھی۔ کہ کیسے ، کیسے ہم اس فیز سے گزریں گے؟ کیسے ایسے ماحول میں رہیں گے اور ایسے حالات کا سامنا کریں گے۔ چونکہ اللہ کے فضل سے میری زندگی میں کوئی میرے گھر میں متا نہیں تھا تو مجھے اس کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔ کوئی اندازہ بھی نہیں تھا ایسی سچوئیشن کو لوگ کیسے ڈیل کرتے ہیں۔ کیسے برداشت کرتے ہیں اور کیسے گزرتے ہیں؟ جب میں دیکھتی تھی کہ کسی کے گھر کا کوئی فرد مر گیا ہے، ماتم کا سماں ہے، لواحقین رو پیٹ رہے ہیں۔ اور کچھ دن بعد وہ ماحول ختم ہوجاتا تھا۔ وہی لواحقین جو رو پیٹ رہے تھے وہ اب زندگی کا سامان کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔ عورتیں کھانا بنانے میں لگی ہیں۔ مرد روزی روٹی کمانے میں جتے ہیں۔ سب کی زندگیاں چل رہی ہیں اس مرنے والے کے بعد بھی اور مرنے والے کے بغیر بھی۔ میرا دل چاہتا تھا کہ ان سے پوچھوں۔ سوال کروں ، کیسے آپ لوگ زندہ ہو؟ کیسے کھانا پکاتے ہو؟ کیسے یہ سب کرتے ہو جبکہ آپکے گھر کا ایک فرد اب آپکے ساتھ نہیں رہا؟کبھی میری ہمت نہیں ہوئی کہ کسی سے پوچھوں، وجہ یہی کہ ایک تو مجھے بات کرنے کا طریقہ نہ آتا تھا، دوسرا مین ایک اچھے بھلے صبر کرکے بیٹھے انسان کے زخم چھیڑ کر اسے رلانا نہیں چاہتی تھی۔ اس لئے کبھی پوچھ نہ سکی کہ وہ اس محول اور صورتحال میں رہتے کیسے ہیں اور اس سے نکلتے کیسے ہیں؟
No comments:
Post a Comment