Sunday, 24 September 2017

بلاگ

زندگی
زندگی وہ قیمتی ترین چیز ہے، جسے اللہ ناتجربہ کاروں کے ہاتھوں میں سونپ دیتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہےایک بزنس مین یا کسی جگہ کا منیجر آپکو ایک معمولی سی چیز کی زمےداری سونپتے کتراتا ہے کہ آپ نا تجربہ کار ہیں۔ بندہ اس سے پوچھے، تم بھی ناتجربہ کار تھے اور ناتجربہ کار ہو۔ اسکے باوجود اللہ نے تمہیں زندگی دی۔ زندگی میں کتنی ہی بار تم نے غلط فیصلے لیے ہوں گے۔ کتنی ہی بار تمہارے اٹھائے ایک غلط قدم نے تمہارا اور دوسروں کا نقصان کیا ہوگا۔ اللہ نے کبھی اس وجہ سے تم سے زندگی واپس نہیں لی کہ تم ناتجربہ کار ہو، تمہیں زندگی گزارنے کا طریقہ نہیں آیا۔ اور تم ایک معمولی سی نوکری دیتے ہوئے ڈرتے اور کتراتے ہو ؟ 
خیر، میرے مطابق یہ افسوس ناک ہے۔ لیکن۔ سوچنے کی بات ہے۔ زندگی کس قدر قیمتی ہوتی ہے۔ آپ کی زندگی، آپ کا وقت، آپ کا جسم جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھستا چلا جاتا ہے۔ جب آپ پیدا ہوتے ہو کس قدر کمزور ہوتے ہو۔پھر ایک مدت لگتی ہے آپ کو مکمل طاقت حاصل کرنے میں۔ جب آپ سب حاصل کر لیتے ہو، تب کھونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آپ کی توانائی، آپ کی ہمت، آپ کا دماغ، لہو ، سب دھیرے دھیرے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وقت کے لحاظ سے بھی اور جسم کے لحاظ سے بھی۔ زندگی دونوں صورتوں میں نہایت قیمتی اور قابل قدر ہوتی ہے۔ وقت ایک بار آتا ہے، زندگی ایک بار ملتی ہے، جسم بھی صرف ایک ہی ملتا ہے۔ لیکن۔ ان کو استعمال کرنے کا ہمارے پاس کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ ہر آنے والا دن ہمارے لئے ایک نیا چیلنج لے کر آتا ہے۔ ہر امتحان کے بعد ایک نیا امتحان، ہر چنوتی کے بعد ایک نئی چنوتی۔ مگر، بنا کسی پیشگی اطلاع کے، بنا کسی تیاری کے، ہمیں آنےوالے چیلنجز کی خبر ہوتی ہے نہ ان سے احسن طریقے سے نمٹنے کا علم۔ پیدا ہونے سے پہلے، دنیا پہ آنے سے پہلے ، زندگی ملنے سے پہلے ہمیں یہ زندگی جینے کی کوئی ٹریننگ نہیں دی جاتی۔ پھر بھی ہم بھیج دئیے جاتے ہیں اس انتہائی قیمتی اور انمول چیز کو استعمال کرنے کے لئے۔ ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ ہم نقصان اٹھاتے ہیں۔ زندگی ہماری غلطیوں پہ ہمیں سیکھ تو دیتی ہے، لیکن کبھی دوسرا موقع نہیں دیتی۔ میں نے زندگی سے بڑھ کر عجیب شے کوئی دوسری نہیں دیکھی اور وقت سے بڑھ کر کوئی بےرحم نہیں دیکھا۔ زندگی ہماری ہو کر بھی ہمارے لئے اجنبی ہوتی ہے اور وقت۔ اسے کسی کی زندگی کی ذرا پروا نہیں ، کوئی قدر نہیں، کوئی فکر یا لحاظ نہیں۔ میں نہیں جانتی ہر آدمی ایسا سوچتا ہے یا نہیں۔ لیکن میں اپنی زندگی کی بہت فکر اور قدر کرتی ہوں۔ ہمیشہ سے جنون رہا، خواہش رہی اور کوشش رہی کہ اس دنیا میں آئی ہوں تو کچھ کرکے جاؤں؛ کچھ حاصل کر لوں، کچھ دے لوں کچھ لے لوں؛اپنے لئے کچھ کر لوں؛ اپنی اولاد کے لئے کچھ بنا لوں؛ کچھ دنیا والوں کےلئے کر جاؤں؛ یہ وقت، یہ زندگی بہت قیمتی ہے۔ ایک بار یہ وقت گزر گیا تو واپس نہیں  آنا؛ زندگی گزر گئی تو دوسری بار نہیں ملنی۔ لیکن، یہ وقت بےحد بےرحم ہے۔ روزانہ کتنے ہی لوگ ، کتنی ہی زندگیاں ہیں جنہیں یہ نگل جاتا ہے۔ بنا کوئی پرواہ کئے، بنا کوئی لحاظ کئے۔ جب میں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں۔ کوئی حادثہ، کوئی جنگ، کوئی تباہی۔ ایک ہی جھٹکے میں دس،بیس، پچاس یا سینکڑوں، ہزاروں زندگیاں وقت کی نذر ہو جاتی ہیں۔ کسی ایک انسان کی غلطی کی نذر یا کسی کی ہوس کی نذر،یا پھر کسی تباہی کی نذر۔ میں حیرت میں پڑ جاتی ہوں۔ سوچتی ہوں ، کیا ان زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں تھی؟ ان مرنے والوں کی زندگیوں کا کوئی مقصد نہیں تھا؟ ان کا اس دنیا پہ کوئی کام نہیں تھا؟ کیا انکے کوئی خواب، کوئی ارادے، کوئی خواہشات نہیں تھیں ؟ کیا انکو ایسے مرنا چاہئیے تھا؟ کیسے مر گئے ؟ کیا یہ پیدا ہوئے تھے کسی کی طمع یا کسی تباہی کی نذر ہونے کے لئے؟ کیا یہی ان کے دنیا میں آنے کا مقصد تھا؟ کسی اور انسان کے ہاتھوں استعمال ہونے لئے؟  کیا ایک انسان کی زندگی اتنی بےوقعت ہو سکتی ہے؟ اتنی ارزاں کہ ایک جان ، ایک طمع کے بھیٹ چڑھ جائے؟ مجھے سمجھ نہیں آتی، اس کا جواب نہیں ملتا۔ اور میری حیرت دور نہیں ہوتی۔ میں سوچتی ہوں۔ کیا اسی طرح ایک روز میری بھی زندگی ختم ہو سکتی ہے؟ میری خواہشات، میری کوششیں، میرے ارادے سب ایسے ہی ادھورے رہ جائں گے اور میں بھی نذر ہو جاؤں گی کسی تباہی یا کسی کی طمع کی نذر ؟ پھر میرے دل میں میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہی کرنا تھا تو پیدا کیوں کیا تھا؟ کیوں کوئی صلاحیت یا قابلیت دی تھی؟ میرے لئے یہ ناقابل قبول ہے۔اور دوسروں کے ساتھ ایسا ہوتے دیکھتی ہوں تو اتنی ہی ڈسٹرب بھی ہوتی ہوں۔ اور ان لوگوں کو دیکھ کر تو اور بھی حیرت میں پڑ جاتی ہوں جن کو اپنی زندگی اور اپنے وقت کی قدر و قیمت کا احساس تک نہیں۔ کیسے؟ 

No comments:

Post a Comment